زعم ناقص

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - گمان بے جا، حقیر رائے، ناچیز فہم، نا چیز رائے۔ "حضور جو فرمائیں درست ہے مگر میرے زعم ناقص میں غالب کے شعر کا مطلب وہی ہے جو میں کہہ رہا ہوں۔"      ( ١٩٦٩ء، مہذب اللغات، ٢١٩:٦ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'زعم' کے آخر پر کسرۂ صفت لگا کر عربی صفت 'ناقص' لگانے سے مرکب توصیفی 'زعم ناقص' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے ١٩٦٩ء کو "مہذب اللغات" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گمان بے جا، حقیر رائے، ناچیز فہم، نا چیز رائے۔ "حضور جو فرمائیں درست ہے مگر میرے زعم ناقص میں غالب کے شعر کا مطلب وہی ہے جو میں کہہ رہا ہوں۔"      ( ١٩٦٩ء، مہذب اللغات، ٢١٩:٦ )

جنس: مذکر